اس گاوں کے منظر باتیں کرتے ھیں
چڑیاں پیڑ اور پتھر باتیں کرتے ھییں
سیمنٹ کی دیواریں چپ چپ رہتی ھیں
مٹی کے کچے گھر باتینں کرتے ھینں
ساون مین جب ندیاں شور مچاتی ھینں
جھرنے بھی خوش ھو کر باتیں کرتے ھیں
بادل جب جھکتے ھین سبز پہاڑوں پر
بے حد سندر سندر باتیں کرتے ھین
یہ جو تم کو دکھتے ھین معصوم گلاب
تتلی سے چھپ چھپ کر باتیں ھیں
ہونٹون پے گو رھتے ھیں چپ کے صحرا
آنکھون بیچ سمندر باتین کرتے ھین
اپنی تنھائ کی محفل میں ھم بھی
بیلی ان سے اکثر باتیں کرتے ھیں
Nice
جواب دیںحذف کریںhttps://susankanewriter.blogspot.com/2019/04/letters-for-lewis.html?showComment=1599206425641#c3795984250721388439
Nice
جواب دیںحذف کریںweight loss exercise at home
Adorei. Belo blog.
جواب دیںحذف کریںBeijos.
Fabulous blog
جواب دیںحذف کریںPlease read my post
جواب دیںحذف کریںThis is a beautiful poem, Baili. The scenery of the village does indeed speak. My compliments.
جواب دیںحذف کریںیہ تبصرہ مصنف کی طرف سے ہٹا دیا گیا ہے۔
جواب دیںحذف کریں
جواب دیںحذف کریںE eu gosto da voz do mar
Escuto o seu marulhar
Como quem ouve e se cala.
.
Parabéns pelo belo poema! Abraço cordial. Laerte.
Sim a natureza fala
LINDO!
جواب دیںحذف کریںwow this is beautiful.
جواب دیںحذف کریںAs I READ I COULD ONLY IMAGINE THE SCENE OF THE VILLAGE
جواب دیںحذف کریںبہت اچھا، بیلی۔ اپنے آبائی گاؤں کا تصور کرنا بہت خوبصورت اور آسان ہے۔
جواب دیںحذف کریںΕίμαι σε μια μικρή περιοδεία σε αυτούς τους κόσμους και δεν μπορώ να χάσω την επίσκεψή σας, σας έχω διαβάσει δύο φορές, είναι ένα πολύ βαθύ ποίημα, όσο βαθύ μπορεί να είναι η ζωή
جواب دیںحذف کریں